آخر تم کون ہو میرے

Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), K.S.A

نظریں ہر پل
تمہیں دیکھنے کی
طاق میں رہتی ہیں
ان پر تو پھر
نیند حرام ہو جاتی ہے
جب یہ تمہارے
خیال میں رہتی ہیں
تم کیوں بہت اپنے سے لگتے ہو ؟
جیسے تم میرے ہی دل کا
کوئی کھویا ہوا حصہ ہو
لیکن یہ دنیا بار بار
مجھ سے سوال کرتی ہے
کے آخر میں کیوں تمہیں
ہر پل یاد کرتی ہوں
میں کیوں تمہارا
اتنا خیال کرتی ہوں
میں کیوں تمہارا
انتظار کرتی ہوں
میں کیوں رو رو کر
تمہارے لیے رب سے
فریاد کرتی ہوں
میں کیوں تمہاری خاطر
دنیا تو اپنے
خلاف کرتی ہوں
میں اپنی ہستی کو
کیوں انجانے دکھوں
میں فنا کرتی ہوں
کے باظاہر تم تو
میرے کچھ نہیں لگتے
لیکن کوئی کیا جانے کہ
مجھ میں تو صرف
تم ہی تم ہو
میری ہر سانس پر جیسے
صرف تمہارا حق ہو
لیکن بار بار دنیا مجھ سے
یہ سوال کرتی ہے کہ
آخر تم کون ہو میرے

Rate it:
Views: 528
02 Apr, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL