آخری خواہش
Poet: Saeed Akhter Rahi By: Saeed Akhter Rahi, karachiہمارے پیار کا ایسا مظبوط بندھن ہوتا
چھوٹے سے گھر میں چھوٹا سا آنگن ہوتا
میں تیرے ماتھے پہ پیار سے بوسا دیتا
تیری پیشانی پہ جھومر کا وہ درشن ہوتا
ہم ایک لمبے سفر کے لیے ہمراہی بنے تھے
کاش رنگپور ہم دونوں کا چمن ہوتا
تیری تجویز تھی کہ ہم بھاگ کر شادی کرلیں
میں اگر مان جاتا تو تیرا ساجن ہوتا
یہ جانتا کہ آرزو ہے تجھے دولت و ثروت کی
رزق حرام سے میرا بھی گھر گلشن ہوتا
مرنے والے کی آخری خواہش یہ ہے
کاش میں تیرے ہی ہاتھوں دفن ہوتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






