رانی وہاں راہی کی جھونپڑی نہیں ہوتی
Poet: Saeed Akhter Rahi By: Saeed Akhter Rahi, karachiتیرے سانسوں کی جہاں گرمی نہیں ہوتی
موت ہوتی ہے وہاں زندگی نہیں ہوتی
ملنے آتی جہاں محل سے چل کر پیدل
رانی وہاں رانی کی اب جھونپڑی نہیں ہوتی
آؤ آکر دیکھ لو کیا ہال ہے بیمار کا
چراغ سحری سے تمہیں ہمدردی نہیں ہوتی
پیار کا کوئی فسل پھل پھول نہیں سکتا جہاں
بہت زرخیز اگر وفا کی مٹی نہیں ہوتی
جہاں دلوں میں ہو پیار معتبر اور محترم
اس بازار میں جنس وفا سستی نہیں ہوتی
دنیا میں ہے فریب کی جاناں بہت فراوانی
کبھی جھوٹی وفاؤں کی یہاں کمی نہیں ہوتی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






