آخری ملاقات
Poet: Obaid Ullah By: Obaid Ullah Khan ghauri, Mansehraسنو کچھ تو کہو جاناں
یوں کیوں خاموش بیٹھے ہو
لگائے روگ بیٹھے ہو
یہ چپ اب توڑ ڈالو تم
تمہارے دل میں جو کچھ ہے
وہ اب تو کہہ بھی ڈالو تم
یونہی خاموش رہنے سے
مسائل حل نہیں ہوتے
خلا میں دیکھنے سے جاں
کبھی یھ وقت نہیں رکتا
یہ چند گنتی کے لمحے ہیں
انہیں یوں نہ گنواؤ تم
مجھے معلوم ہے تم بھی
اسی دوری سے ڈرتی ہو
کہ جس کا سوچ کر میں بھی
بہت مایوس ہوتا ہوں
ُُُپر اب یہ ہجر تو جاناں
مقدر میں ہمارے ہے
مگر پھر بھی یہ سوچو تم
محبت کا حسیں بندھن
ہمارے بیچ پھیلا ہے
یہ وہ بندھن کہ میں اور تم
اگر کچھ دیر کو سوچیں
حسیں اک خواب لگتا ہے
اسی اب خواب کہ بل پہ
ہمیں یہ ہجر مٹانا ہے
محبت میں کبھی دیکھو
ہجر وقعت نہیں رکھتا
جو دوری سہہ نہیں سکتا
محبت کر نہیں سکتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






