آخری ملاقات

Poet: Obaid Ullah By: Obaid Ullah Khan ghauri, Mansehra

سنو کچھ تو کہو جاناں
یوں کیوں خاموش بیٹھے ہو
لگائے روگ بیٹھے ہو
یہ چپ اب توڑ ڈالو تم
تمہارے دل میں جو کچھ ہے
وہ اب تو کہہ بھی ڈالو تم
یونہی خاموش رہنے سے
مسائل حل نہیں ہوتے
خلا میں دیکھنے سے جاں
کبھی یھ وقت نہیں رکتا
یہ چند گنتی کے لمحے ہیں
انہیں یوں نہ گنواؤ تم
مجھے معلوم ہے تم بھی
اسی دوری سے ڈرتی ہو
کہ جس کا سوچ کر میں بھی
بہت مایوس ہوتا ہوں
ُُُپر اب یہ ہجر تو جاناں
مقدر میں ہمارے ہے
مگر پھر بھی یہ سوچو تم
محبت کا حسیں بندھن
ہمارے بیچ پھیلا ہے
یہ وہ بندھن کہ میں اور تم
اگر کچھ دیر کو سوچیں
حسیں اک خواب لگتا ہے
اسی اب خواب کہ بل پہ
ہمیں یہ ہجر مٹانا ہے
محبت میں کبھی دیکھو
ہجر وقعت نہیں رکھتا
جو دوری سہہ نہیں سکتا
محبت کر نہیں سکتا

Rate it:
Views: 795
20 Mar, 2008
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL