آخری مُلاقات

Poet: Muhammad Imran Khan - Emron Mano By: Muhammad Imran Khan, Peshawar

وہ کتنے سالوں کتنی مدتوں کے بعد آئی
سوئی حسرتیں تمام، پھر سے جگا لائی

دیکھ کر اُسے میرے دل کو کتنی خوشی ملی
نجانے آنکھ میری کیوں اچانک بھر آئی

وہ میرے سامنے، میرے ہی روبرو بیٹھی
جو مُجھ کو دیکھا تو وہ زرا سی شرمائی

میں ہنس کر کہنے لگا کُچھ بات کرو
آنچل دانتوں میں دبا کر زرا سی مُسکائی

کہا اماں سے مُجھے کوئی مانگنے آیا
میں تُجھ سے تیرے دل کی بات پوچھنے آئی

میری اُمیدوں حسرتوں پہ سرد برف پڑھی
یہ کس امتحان کی گھڑی مُجھ پہ آئی

میری آنکھوں میں بے بسی تو اُس نے پڑھ لی تھی
پھر بھی اُمید کی شمع میرے دل میں جلائی

میں اِس سوال سے کچھ اسقدر اُلجھ سا گیا
میرے نظر اُسکی نظروں سے پھر نہ مل پائی

اُس نے مجھ کو سمجھایا، مُجھے دلاسہ دیا
خُدا حافظ جو کہا تو آواز بھر آئی

ہاں اُسکی آخری مُلاقات مُجھ کو یاد آئی
بج رہی تھی، ڈھولک ساتھ شہنائی

Rate it:
Views: 511
12 Jan, 2016
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL