آرزو یاد رکھنا
Poet: Owais Sherazi By: Owais Sherazi, Lahoreپیار میں اجنبیت کے قائل نہیں جاناں یاد رکھنا
ھم پیار میں سب فرق مٹا دیتے ھیں یاد رکھنا
دوستی میں بے رخی کی گنجائش نہیں رکھتے
بے رخی سے بہتر ھے الوداع کہنا یاد رکھنا
محبت کوئی کھیل نہیں ایک حقیقت ھے دوست
اور ھم مخلص لیکن خودار بہت ھیں یاد رکھنا
پیار جنون کی طرح کرنے کو پیار کہتے ھیں
اور جنون کبھی کم نہیں ھوتا یہ بات یاد رکھنا
یہ دوستی بھی محبت کا حصہ ھے میری جان
صرف دوستی کو محبت نہیں کہتے یاد رکھنا
پیار میں زخم ملیں یا پھول سب سے پیار ھمکو
اور پیار بٹ جائے یہ برداشت نہیں یاد رکھنا
جوھمارا جنوں اچھا لگے تو پیار کو قائم رکھنا
کہ ھمیں بھی تم سے پیار بہت یہ بات یاد رکھنا
ھمارے جنون کو تم نے اپنے پیار سے پالا ھے
یہ جنون تمہارا اور میرا پیار ھے جاناں یاد رکھنا
دل میں بسا کے دھڑکن بنا کے چاھا ھے تمہیں
اور تم نے بھی تو ھمیں چاھا تھا یہ یاد رکھنا
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






