آسان سی مشکل ہوں میں
Poet: Shama By: Shama Chaudhry, WALES UKروحِ رواں ہوں پیار کی میں جسم و جاں نہیں
نقشِ وفا اَنمٹ ہوں میں بے نشاں نہیں
سایہ سا تیرے ساتھ ہوں دل میں مچلتی لو ہوں
ہر سُو تُو مجھکو دیکھ لے میں کہاں نہیں
نہ آزمائش ہوں کڑی نہ راہ ہوں کٹھن
آسان سی مشکل ہوں میں کوئی امتحاں نہیں
خاموشیوں کے لب پہ ہوں مدہوش سا نغمہ
سوز و سرورِ ساز ہوں میں بے زباں نہیں
فصلِ جنوں کی رت ہوں میں دیوانگی بھی ہوں
بحرِ محبت میں کوئی موجِ نہاں نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






