شمع کے احساس کے شعلوں میں
Poet: Shama By: Shama Chaudhry, WALES UKبن کے سایہ ساتھ تیرے اس طرح چلتی رہی
جس طرح تیری ہی منزل ہم سفر بنتی رہی
کسی طرح ہم خود محبت میں دل و جاں ہار گئے
ورقِ جاں پہ خوں سے یہ داستاں لکھتی رہی
رو برو جب تک رہا ہے پھول چہرہ ترا
فکر و فن کے زاویوں میں رنگ سے بھرتی رہی
یاد بن بن کر رگ و پے میں سرایت کر گئی
موجِ خوشبو کی طرح جو بھی صدا آتی رہی
کیوں نہ ہراک دل میں مَیں مشعل جلادوں پیار کی
شمع کے احساس کے شعلوں میں جو جلتی رہی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






