آسماں کے تیور ہیں بدلے بدلے
Poet: Majassaf Imran By: Majassaf Imran, Gujratآسماں کے تیور ہیں بدلے بدلے لگتا ہے آسماں برسے گا
مہک اُٹھے گی گلشنِ رونق تیرے گھر گلاب کھلے گا
رات بھر رہے گا شرم سے آسماں کا چاند جھکا جھکا
زمین پہ کل چاند سے جب میرا چاند ملے گا
تتلیاں ہوں گی قطاروں میں مُنتظر تیرے طواف کی
کیا خوب رنگ اُسکے شہر تیری حَنا کا جمے گا
فضائیں صبح و لنور ہی وُضو کا لبادہ اُڑ رکھیں گی
ایسا جھومیں گا خوشی میں بادل کہ پھر نہ تھمیں گا
رہیں گے شاعر بھی کشمکش میں لکھیں تو کیا لکھیں ہم
شَب گُزر جائے گی سوچوں میں مگر عنوان نہ ملے گا
وقتِ رُخصت نہ ہاتھ ہلانا دیکھ کر افسردہ نگاہوں سے
دریا موجھ میں راہ کر بھی نفیس موجھوں سے نہ ملے گا
More Love / Romantic Poetry
ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
MAZHAR IQBAL GONDAL






