آنکھ میں سوغات

Poet: رشِید حسرتؔ By: رشِید حسرتؔ, Quetta

دُور کر دے گا کبھی سات نہِیں ہونے دے گا
وقت بےدرد مُلاقات نہِیں ہونے دے گا

غم کی وہ آنکھ میں سوغات لِیے پِھرتا ہے
درد کی کوئی بھی برسات نہِیں ہونے دے گا

اُس نے سِیکھا ہے کوئی قطع کلامی کا ہُنر
اِس لِیے ڈھنگ سے ہی بات نہِیں ہونے دے گا

تُو نے سونپی ہے جِسے ایک اندِھیری نگری
وہ تِرے دِن کو کبھی رات نہِیں ہونے دے گا

تُم کو معلُوم ہے فِطرت ہے مگر خُوش گوئی
اپنے لہجے کو کبھی دھات نہِیں ہونے دے گا

ہم نے سوچا تھا کہ آسان رہے گی منزِل
پر حرِیف ایسا ہے بد ذات، نہِیں ہونے دے گا

دِل عجب چِیز ہے یہ خُود تو رہے شِکوہ کُناں
میں کرؤں تُم سے شکایات، نہِیں ہونے دے گا

سانپ کی طرح مِرا بھاگ بدلتا ہے کھال
تیرے ہاتھوں میں مِرا ہات نہِیں ہونے دے گا

جِس کی بیٹی کی کبھی لوٹ گئی ہو حسرتؔ
خالی لوٹے کوئی بارات نہِیں ہونے دے گا


 

Rate it:
Views: 604
23 Jan, 2023
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL