خون سے لتھڑے ہوئے دیوار و در دیکھے گا کون

Poet: تنہاؔ لائلپوری By: تنہاؔ لائلپوری, Faisalabad

خون سے لتھڑے ہوئے دیوار و در دیکھے گا کون
میرے پیچھے میرا بدبودار گھر دیکھے گا کون

کون جانے گا مرے حالاتِ اصلی میرے بعد
زندگی کی کس طرح میں نے بسر دیکھے گا کون

دیکھ بھی لے گا اگر کوئی مرے سینے کے داغ
پار سینے کے لگے زخمِ جگر دیکھے گا کون

لوگ تو دیکھیں گے منزل پر کھڑے انسان کو
کیسے مشکل راستوں پر تھا سفر دیکھے گا کون

آئینہ کہتا ہے مجھ سے اور میں آئینے سے
جس قدر میں دیکھتا ہوں اس قدر دیکھے گا کون

دیکھنے والی تو آخر ہو گی حالت آخری
دیکھنے والے کی حالت کو مگر دیکھے گا کون

ٹھان لی ہے، بن کے دیوانہ پھروں گا اور مجھے
کوچۂ دلبر میں تنہاؔ رات بھر دیکھے گا کون

Rate it:
Views: 539
22 Jan, 2023
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL