آنکھوں سے مری آنسو ہر آن نکلتے ہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاآنکھوں سے مری آنسو ہر آن نکلتے ہیں
کیوں میری محبت کے ارمان نکلتے ہیں
جب شعروں کی مالا میں سوچوں سے پروتی ہوں
تب جا کے کہیں دل سے دیوان نکلتے ہیں
جب آئینے میں صورت دھندلی سی دکھائی دے
پھر دھول کی وادی سے انسان نکلتے ہیں
اس گھر میں جفاؤں کی بلاؤں کا جو ڈیرا ہے
چل پڑھتے ہوئے دل سے قرآن نکلتے ہیں
کوشش تو بہت کی ہےپھولوں سے سجاؤں میں
پر لے کے وہ خالی ہی گلدان نکلتے ہیں
وہ بھول چکا سب کچھ ، پھر بھی یہ فریضہ ہے
ہاں ، ملنے کے کچھ نہ کچھ امکان نکلتے ہیں
ہونٹوں پہ درودوں سے مسکان سجا وشمہ
جب ورد کریں اکثر شیطان نکلتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






