ہونٹوں پہ سجا کر یوں مسکان نکلتے ہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاہونٹوں پہ سجا کر یوں مسکان نکلتے ہیں
یہ درد تو آنکھوں سے ہر آن نکلتے ہیں
آتے ہیں تجھے ملنے ، ہوتے ہیں جواں لیکن
پھر شہر سے نکلیں تو بے جان نکلتے ہیں
اب بھولنا چاہوں تو دل بھول نہیں پاتا
سب سوئے ہوئے میرے ارمان نکلتے ہیں
اس شہرِ تمنا میں دل خون ہوا میرا
یہ یاد کے ہر سو جو طوفان نکلتے ہیں
وہ درد کی صورت ہی مرے دل میں مچلتا ہے
جب خواہشِ ہستی کے سامان نکلتے ہیں
ماحول تو چہرے کا غربت نے بگاڑا ہے
کیوں دل سے محبت کے سلطان نکلتے ہیں
اب تو ہی بتا وشمہ کیسے میں انہیں روکوں
اس کہر میں آنکھوں سے مرجان نکلتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






