فسانہ پھول کا
Poet: Shama By: Shama Chaudhry, walesمحبت کی بہاروں سے خزائیں دور رہتی ہیں
سرور وصل سے دل کی فضائیں دور رہتی ہیں
تمہارے نام سے آباد یہ شہرِ تمنا ہے
تمہاری یاد سے تنہائیاں مسرور رہتی ہیں
تیرے ہی خواب آنکھوں میں تیری تصویر ہے دل میں
تجھے مل کر نگائیں دیر تک مخمور رہتی ہیں
فسانہ پھول کا آ کر تجھے جب جب سناتے ہیں
بہاروں کی حسیں گھڑیاں بہت مغرور رہتی ہیں
کبھی بھی ترکِ الفت کا گناہ ہر گز نہ تُو کرنا
وفا کی داستانیں ہی سدا مشہور رہتی ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







