آنکھوں میں بس گیا کوئی مست شباب ہے
Poet: Fazlul Hasan By: F.H.Siddiqui, Lucknow اب فکر میکدہ ہے نہ شوق شراب ہے
آنکھوں میں بس گیا کوئی مست شباب ہے
رخ پر ہے گیسؤں کا جو عالم نہ پوچھئے
کالی گھٹا کی اوٹ میں اک ماہتاب ہے
نظریں جھکی جھکی سی یہ دیتی ہیں سو پیام
کوئی بتا ئے ہم کو یہ کیسا حجاب ہے
حسن و شباب تیرا یہ ناز و ادا تری
جو چیز دی خدا نے تجھے لا جواب ہے
کہہ دو حسن یہ ان سے کہ معصوم ہیں ابھی
نکلیں نہ یوں سنور کے زمانہ خراب ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






