آنکھوں میں تیرے منتظر ہیں سپنے چھپائے ہوئے
Poet: Syed Ishtiaq Hussain Kazmi By: Waqas Shah, rawalpindiآنکھوں میں تیرے منتظر ہیں سپنے چھپائے ہوئے
پھرتے ہیں دل بچھا کے تیرے رستے سجائے ہوئے
جھک جھک کے دیکھتے ہیں تیرا رستہ بار بار
آج دل کو نکال کر ہم ہیں آنکھوں میں لائے ہوئے
کون آرہا ہے سوچو کتنا حسین ہے
بکھرے پڑے ہیں پھول جن کی راہیں سجائے ہوئے
لوگوں کو غم دنیا نے اندھا کر دیا ہے
کتنے روشن ہیں تیرے غم میں ہم دل کو جلائے ہوئے
جس دن سے تو نے آنے کا عہد کر لیا ہے
اس دن سے ہم بیٹھے ہیں جشن منائے ہوئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






