دور سے لگتی ہیں کنارہ تیری آنکھیں
Poet: Syed Ishtiaq Hussain Kazmi By: Waqas Shah, rawalpindiدور سے لگتی ہیں کنارہ تیری آنکھیں
ہم کو سمندر میں اتارا تیری آنکھیں
ہمیں ساحل سے دلکشی کا دے کے فریب
موجوں میں گھیر کر مارا تیری آنکھیں
جھکیں تو کائنات کا نظارا تیری آنکھیں
اٹھیں تو فلک کا حسن سارا تیری آنکھیں
مرنے سے ہمیں کوئی ڈر نہیں لگتا
موت کا بڑا دلکش ہیں نظارا تیری آنکھیں
ان کو بھلا کون میرے دل سے نکالے
اک یہی تو ہیں مان ہمارا تیری آنکھیں
یوں تو دنیا میں بہت حسین پڑے ہیں
حسن کو مگر دلکشی میں اتارا تیری آنکھیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







