آنکھوں میں سجا کر کتابِ برحق و پرنور کو ہر جا دیوانوں کی طرح
Poet: muhammad aqeel hazoory By: muhammad aqeel hazoory, karachiبسم اللہ الرحمن الرحیم
صلی اللہ علیہ وسلم
جہانِ عالیشاں میں ہر جا میں سچے نشانِ عشقِ مصطفٰیؐ کو ڈھونڈتا ہوں
جہانِ امکاں میں ہر جا میں سچے کاروانِ عشقِ مصطفٰیؐ کو ڈھونڈتا ہوں
راہِ خیرالورٰیؐ پر چلنے سے ہر جا عیاں ہوتے ہیں خدا کے جلوے، اس لیے
جہانِ عاشقاں میں ہر جا میں سچی داستانِ عشقِ مصطفٰیؐ کو ڈھونڈتا ہوں
محبوبِ یزدانی زرے زرے پر ، ہر جا ہیں تیری شفقت کے نشاںِ، اس لیے
جہانِ مہرباں میں ہر جا میں سچے سائبانِ عشقِ مصطفٰیؐ کو ڈھونڈتا ہوں
نورِ خدا ہیں حضورؐ ، ہر جا ملتے ہیں نورانی قلب میں، اس لیے
جہانِ جانثاراں میں ہر جا میں ،سچے فدایانِ مصطفٰیؐ کو ڈھونڈتا ہوں
آنکھوں میں سجا کر کتابِ برحق و پرنور کو ہر جا دیوانوں کی طرح
جہانِ قرآں میں ہر جا میں، سچے دیوانِ عشقِ مصطفٰیؐ کو ڈھونڈتا ہے
عبادت مقبول ہے ہر جا دربارِ خداوندی میں بوسیلہء مصطفٰیؐ اس لیے
جہانِ عرفاں میں ہر جا میں، سچے دامانِ عشقِ مصطفٰیؐ کو ڈھونڈتا ہوں
محو حیرت ہے جہاں ابوبکروعمروعثمان و علی کی شان دیکھ کر، اس لیے
جہانِ شہاں میں ہر جا میں ، سچے غلامانِ عشقِ مصطفٰیؐ کو ڈھونڈتا ہوں
حضوری ہر شے نے لیا ہے عشقِ حقیقی مستعار سرکار دو عالمؐ سے، اس لیے
جہانِ لامکاں میں ہر جا میں ،سچے امکانِ عشقِ مصطفٰیؐ کو ڈھونڈتا ہوں
صلی اللہ علیہ وسلم
رضی اللہ تعالیٰ عنہ
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






