وہ مسکرا کے اگر ہمکلام ہو جائیں
Poet: داد بلوچ فورٹ منرو By: Dad Baloch, DG khanوہ مسکرا کے اگر ہمکلام ہو جائیں
تو سارے زیست کے دکھڑے تمام ہو جائیں
یہ سوچ کے نہیں جاتا کسی بھی محفل میں
کہ راز سارے محبت کے عام ہو جائیں
خدا کرے کوئی توہمت نہ تجھ کو چھو پائے
جو درد و غم ہیں تیرے میرے نام ہو جائیں
میں ایک شہر محبت نیا بساؤں گا
جو اہل دل ہیں جنوں کے غلام ہو جائیں
میں دادؔ ایک مسافر وفا کے راستے کا
میں کیا کروں تیری آنکھیں جو جام ہو جائیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






