آنکھیں
Poet: Abdul Waheed Sajid By: Abdul Waheed Ghori, DUNYA PUR DISTRICT LODHRAN.سمندر تیری آنکھیں ہیں تو ساحل تیری آنکھیں
مجھ کو تو یہ کر دیتی ہیں پاگل تیری آنکھیں
اب نیند بھلا آئے بھی تو کس طرح مجھے
آنکھوں میں میری رہتی ہیں ہر پل تیری آنکھیں
میں صحرا ہوں تو میرے لئے اتنا بھی بہت ہے
مجھ پہ برس پڑیں کبھی بادل تیری آنکھیں
میں تجھ کو بھلانے کا سوچوں تو کس طرح
میرے دل میں مچا دیتی ہیں ہلچل تیرے آنکھیں
میں زندگی میں اور کوئی خواہش نہ کروں
اے کاش مجھے ہو جائیں حاصل تیری آنکھیں
یوں کردیا ہے دنیا سے ساجد کو بیگانہ
جی چاہے چرالوں میں مکمل تیری آنکھیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






