مراسم
Poet: Shabeeb Hashmi By: Shabeeb Hashmi, Al-Khobar K.S.Aآغاز عاشقی نے مراسم سیکھا دئیے
عہد وفا نے سارے شکوے مٹا دئیے
کرشمہ ہے مقدر میں ملے تجھ سے نصیب
سوز و زیاں کے سارے لمحے بھلا دئیے
ضبط گریہ جو کرتا تھا رگ رگ میں سفر
اشکوں کے سارے سلسلے ہم نے بھلا دئیے
شکوہ فراق اب کیوں کر بنے گلہ
بچھڑے ہوئے دوست لم نے ملا دئیے
لب بستہ ہے الجھن میں گرفتار ہے ساقی
زہر میں ڈبو کے جام سب کو پلا دئیے
اب انسے سلسلہ ہے ناں کوئی رابطہ
قاصد کے لائے خط سارے جلا دئیے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







