آنکھیں
Poet: sarfaraz khan By: sarfaraz khan, mumbaiآنکھیں ہیں قاتل نگاہیں ہیں قاتل
آنکھوں سے مچلتی ادائن ہیں قاتل
تری سرخ آنکھیں سزا بن گئی ھے
مجھے دیکھو نہ ایسے سزائں ہیں قاتل
لہو بن کر آنکھوں سے گرتے ہیں آنسو
میں دشمن ہوں ترا یہ کہتے ہیں آنسو
تو نے کیا سمجھا تو ہی غم زدہ ہے
تری فرقت میں آج بھی بہتے ہیں آنسو
یہ آنکھین دلوں میں بجاتی ہے دفلی
یہ آنکھیں کبھی تو گراتی ہے بجلی
اپنی آنکھوں کو تو شربتی نہ بنا
یہی آنکھیں تو مجھکو رلاتی ہے پگلی
جب تری آنکھیں کھلے تو نشا ہی نشا ہے
آنکھییں جھک کر اٹھے تو سزا ہی سزا ہے
اپنی آنکھوں سے جب تجھے دیکھتا ہوں
جیسے آنکھوں میں تری حیا ہی حیا ہے
انہی آنکھوں سے کتنے افسانے بنے
آنکھیں ملتے ہی کتنے دیوانے بنے
ان آنکھوں سے کتے دریا رواں ہیں
انہی آنکھون کے ہم بھی نشانے بنے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






