آو یارو پیار کی باتیں کریں

Poet: wasim ahmad moghal By: wasim ahmad moghal, lahore

آؤ یارو پیار کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔باتیں کریں
اپنے اپنے یار کی۔۔۔۔۔۔۔ باتیں کریں

آپ اپنی حُور کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قصّہ کہیں
اور ہم دلدار کی ۔۔۔۔۔۔۔باتیں کریں

زلفِ عنبر بار کے۔۔۔۔۔۔۔ سایہ تلے
آتشِ رخسار کی ۔۔۔۔۔۔۔باتیں کریں

گرم ہے مے خانہ جس کے ۔۔جام سے
چشم ِمستِ یار کی۔۔۔۔۔۔ باتیں کریں

ساقیا کچھ اُن لبوں کے۔۔۔۔۔ فیض سے
بادہ ہءِ گلنار کی ۔۔۔۔۔۔۔۔باتیں کریں

کچھ شرابِ بے خودی کے ۔۔۔۔واسطے
مستی ءِ پندار کی ۔۔۔۔۔۔۔باتیں کریں

نام جس کا جاں فزا ہے۔۔۔۔۔ دوستو
اُس نشاطِ کار کی ۔۔۔۔۔۔۔باتیں کریں

گل سراپا گوش ہیں ۔۔۔جس کے لئے
آ اُسی گلنار کی۔۔۔۔۔۔۔۔ باتیں کریں

جس سے لیتے ہیں ستارے۔۔۔ روشنی
اُس گلے کے ہار کی۔۔۔۔باتیں کریں

یہ فضا پر نور ہے۔۔۔۔ جس کے سبب
اُس سراپا نار کی۔۔۔۔۔۔ باتیں کریں

صبحِ روشن جس کے۔۔ ماتھے کی کرن
چہرہءِ انوار کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ باتیں کریں

پیاس بجھتی ہی نہیں۔۔۔ جس سے کبھی
شربتِ دیدار کی۔۔۔۔۔۔ باتیں کریں

جس سے روشن ہے۔۔۔۔ چراغِ آرزو
لطفِ نگہِ یار کی ۔۔۔۔۔۔باتیں کریں

جس کے دم سے ہے۔۔ سرودِ زندگی
اپنے موسیقار کی۔۔۔۔ باتیں کریں

رقصِ دل جاری ہے جس کے نام پر
دوستو سرکار کی۔۔۔۔ باتیں کریں

پیکرِ دلدار کے سارے ۔۔۔۔خطوط
حسرتِ فنکار کی۔۔۔۔ باتیں کریں

حُورِ جنّت جس کی اِک۔ تصویر ہے
کیوں نہ اُس شہکار کی ۔باتیں کریں

اُس گلِ رعنا کی خوشبُو ۔۔کے طفیل
رعنایئ ِ ِافکار کی۔۔۔۔باتیں کریں

اُس کی یادوں کی حسیں محفل میں ہم
کس لئے اغیار کی۔۔۔باتیں کریں

اُن کی باتیں ختم نہ ہوں گی۔ وسیم
آپ اپنے یار کی۔۔۔ باتیں کریں

Rate it:
Views: 1495
25 Mar, 2015
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL