آپنی پیاری ماں کے نام
Poet: Mohammed masood By: Mohammed masood, Meadows Nottinghamزندگی میں کچھ کھویا اور کچھ پایا
لیکن تجھے کھونا نہیں چاہتا ماں
زندگی نے کبھی ہنسایا کبھی رولایا
لیکن تجھے رلانا نہیں چاہتا ماں
یاد آتی تیری بچپن کی وە لوری
اس لیے تیری گود کے سوا کہیں
اور کہیں سونا نہیں چاہتا ماں
لیکن تجھے کھونا نہیں چاہتا ماں
کتنا ڈھونڈا تھا تو نے بچپن میں
اب کیوں نہیں ڈونڈتی تو ماں
کیسے زندا رە پاوں گا تیرے بغیر
کبھی فرصت ملے مجھے یہ بتا ماں
کیا ہوں میں تیرے دل میں اب تک
دیکھ میرے دل کو چیر آپنے آپکو ماں
زندگی تو نے میری روشن کر دی
خود کس اندھیرے کھو گۂی تو ماں
کبھی تو کھلا مجھے آپنے ہاتھ کی روٹی
آج کل بھوک بہت لگتی ہے مجھے ماں
کہاں ہے تو ماں گلے لگا بےبس مسعود کو
نہ جانے کس کاش نکل جائے میری سانس ماں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






