آپنی پیاری ماں کے نام

Poet: Mohammed masood By: Mohammed masood, Meadows Nottingham

زندگی میں کچھ کھویا اور کچھ پایا
لیکن تجھے کھونا نہیں چاہتا ماں

زندگی نے کبھی ہنسایا کبھی رولایا
لیکن تجھے رلانا نہیں چاہتا ماں

یاد آتی تیری بچپن کی وە لوری
اس لیے تیری گود کے سوا کہیں

اور کہیں سونا نہیں چاہتا ماں
لیکن تجھے کھونا نہیں چاہتا ماں

کتنا ڈھونڈا تھا تو نے بچپن میں
اب کیوں نہیں ڈونڈتی تو ماں

کیسے زندا رە پاوں گا تیرے بغیر
کبھی فرصت ملے مجھے یہ بتا ماں

کیا ہوں میں تیرے دل میں اب تک
دیکھ میرے دل کو چیر آپنے آپکو ماں

زندگی تو نے میری روشن کر دی
خود کس اندھیرے کھو گۂی تو ماں

کبھی تو کھلا مجھے آپنے ہاتھ کی روٹی
آج کل بھوک بہت لگتی ہے مجھے ماں

کہاں ہے تو ماں گلے لگا بےبس مسعود کو
نہ جانے کس کاش نکل جائے میری سانس ماں

Rate it:
Views: 739
10 Mar, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL