اک زخم میں چھپے کتنے زخم یاد آئے
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky) , Saudi Arabiaاک زخم میں چھپے کتنے زخم یاد آئے
کس نے لگائے تھے زخموں پر مرہم یاد آئے
نادانیوں کا دور تھا کبھی ہم پر بھی
کس کس طرح کے لگے الزام یاد آئے
سچی محبت کے لیے مددت سے پیاسی تھی بہت
جھوٹے خواب دیکھانے والوں کے آج نام یاد آئے
جب مر جائے کوئی پھر تمہارے اقرار سے کیا فائدہ
میرے مرتے ہی جو ہوئے کافر سے مسلم یاد آئے
وہ خوشیوں کا شہر تھا جہاں میں رہتی تھی کبھی
اندھیرے میں لانے والے مجھے میرے مجرم یاد آئے
میری تمناؤں کو کچل کر زمانہ ہستا رہا
کیسے ہوئے دل کی ٹکڑے سرے بام یاد آئے
وہ پریشان ہو تو دعا کے لیے مجھے ڈھونڈتا ہے
مجھ گنہگار پر کیسے ہوئے خدا کے کرم یاد آئے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






