اک زخم میں چھپے کتنے زخم یاد آئے

Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky) , Saudi Arabia

اک زخم میں چھپے کتنے زخم یاد آئے
کس نے لگائے تھے زخموں پر مرہم یاد آئے

نادانیوں کا دور تھا کبھی ہم پر بھی
کس کس طرح کے لگے الزام یاد آئے

سچی محبت کے لیے مددت سے پیاسی تھی بہت
جھوٹے خواب دیکھانے والوں کے آج نام یاد آئے

جب مر جائے کوئی پھر تمہارے اقرار سے کیا فائدہ
میرے مرتے ہی جو ہوئے کافر سے مسلم یاد آئے

وہ خوشیوں کا شہر تھا جہاں میں رہتی تھی کبھی
اندھیرے میں لانے والے مجھے میرے مجرم یاد آئے

میری تمناؤں کو کچل کر زمانہ ہستا رہا
کیسے ہوئے دل کی ٹکڑے سرے بام یاد آئے

وہ پریشان ہو تو دعا کے لیے مجھے ڈھونڈتا ہے
مجھ گنہگار پر کیسے ہوئے خدا کے کرم یاد آئے

Rate it:
Views: 685
11 Mar, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL