آگہی آگہی نہیں ہوتی
Poet: wasim ahmad moghal By: wasim ahmad moghal, lahoreآگہی آگہی ۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں ہوتی
زندگی زندگی ۔۔۔۔۔۔نہیں ہوتی
آپ کا دل اگر نہ حاضر۔۔۔۔۔ہو
بندگی بندگی۔۔۔۔۔۔ نہیں ہوتی
تیرے چہرے کی روشنی کے سِوا
روشنی روشنی ۔۔۔۔۔نہیں ہوتی
چاند اپنا نہ ساتھ ہو ۔۔۔۔۔ اپنے
چاندنی چاندنی۔۔۔۔۔ نہیں ہوتی
سچ تویہ ہے تیرے بِنا ۔۔۔جاناں
زندگی زندگی۔۔۔۔۔نہیں ہوتی
شوخ ادائیں نہ ساتھ ہوں توسنو
دلبری دلبری ۔۔۔۔۔نہیں ہوتی
دل کی باتیں اگر نہ ہوں اِس میں
شاعری شاعری ۔۔۔نہیں ہوتی
دوست احباب گر نہ شامل ہوں
مے کشی مے کشی۔۔ نہیں ہوتی
آپ کی گر رہے نظر۔۔۔۔ ہم پر
مفلسی مفلسی ۔۔۔۔۔نہیں ہوتی
ذوق ملتے نہ ہوں۔۔ جو آپس میں
دوستی دوستی ۔۔۔۔۔نہیں ہوتی
جس میں ہوتی نہیں ہے رسوائی
عاشقی عاشقی ۔۔۔۔۔نہیں ہوتی
وہ جوکھینچےاگر نہ۔۔۔۔۔ سُولی پر
سرکشی سرکشی۔۔۔ نہیں ہوتی
دشمنوں سے اگر نہ۔ نفرت ہو
دشمنی دشمنی۔۔۔۔ نہیں ہوتی
دیپ روشن رہیں جو یادوں کے
تیرگی تیرگی۔۔۔۔ نہیں ہوتی
حوصلہ گر ملے۔۔۔پیاروں سے
بےبسی بےبسی۔۔ نہیں ہوتی
دل میں احساس ہو جو غیرت کا
عاجزی عاجزی۔۔۔ نہیں ہوتی
وہ جو کھینچے نہیں۔ میرے دل کو
دلکشی دلکشی۔۔۔۔ نہیں ہوتی
دلبری گر نہ ساتھ ہو ۔۔جاناں
دل لگی دل لگی۔۔۔ نہیں ہوتی
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






