آہ کس دل سے ترے پیار کے افسانے سنوں
Poet: hussain nisar By: hussain nisar, karachiہم کہ انداز بھی اظہار کے رکھ دیتے ہیں
یعنی شعروں میں ہنر پیار کے رکھ دیتے ہیں
جب بھی بنتے ہو بہاروں میں چمن کی زینت
موسمِ غنچہ و گل وار کے رکھ دیتے ہیں
جب بھی دامن سے الھجتا ہے جنوں کا پندار
حوصلے توڑ کے ہم خار کے رکھ دیتے ہیں
آہ کس دل سے ترے پیار کے افسانے سنوں
تذکرے تیرے مجھے مار کے رکھ دیتے ہیں
عمر بھر کون نبھاتا ہے محبت کا الم
‘‘لوگ یہ بوجھ بھی تھک ہار کے رکھ دیتے ہیں‘‘
اذن ملتا ہے اگر آخری خواہش کا کبھی
ہم تقاضے ترے دیدار کے رکھ دیتے ہیں
جب بھی گنتے ہیں گریباں کے سبھی تار نثار
طاق پر وعدے ترے پیار کے رکھ دیتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






