غبارِ دشت ہوئیں وحشتیں ہیُولوں
Poet: ورد بزمی By: ورد بزمی, اسلام آبادغبارِ دشت ہوئیں وحشتیں ہیُولوں کی
جنوں میں رقص کرے تیرگی بگُولوں کی
میں جا بہ جا نہیں سر ایک جا جھکاتا ہُوں
مرے یقین میں میراث ہے رسُولوں کی
محبتوں میں بھی کیا کوئی آزماتا ہے
دلوں میں بات کہاں آگئی اصُولوں کی
جس آئینے میں ترا عکس جھلملایا تھا
اُس آئینے سے مہک آرہی ہے پُھولوں کی
میں ورۡد ہُوں مرا مسلک ہے رنگ اور خوشبو
مری سرشت میں کیا ہو چبھن ببولوں کی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






