اب بھی تیرا انتظار ہوتا ہے

Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabia

چاند کو چاندی سے پیار ہوتا ہے
کہ اب بھی تیرا انتظار ہوتا ہے

دعاؤں میں تیرا ہی نام ہوتا ہے
کہ اب بھی تیرا انتظار ہوتا ہے

پرندوں کو ہواؤں پے اعتبار ہوتا ہے
کہ اب بھی تیرا انتظار ہوتا ہے

شبنم کی بوندؤں کو پھولوں سے پیار ہوتا ہے
کہ اب بھی تیرا انتظار ہوتا ہے

ہواؤں کی سرگوشی میں تیرا احساس ہوتا ہے
کہ اب بھی تیرا انتظار ہوتا ہے

ساقی کے ہاتھ میں جام ہوتا ہے
کہ اب بھی تیرا انتظار ہوتا ہے

کنارے کو لہروں پے مان ہوتا ہے
کہ اب بھی تیرا انتظار ہوتا ہے

دل کی ہر دھڑکن میں تیرا نام ہوتا ہے
کہ اب بھی تیرا انتظار ہوتا ہے

مہندی سے ہی ہاتھ لال ہوتا ہے
کہ اب بھی تیرا انتظار ہوتا ہے

میرے شعروں کی تو ہی شان ہوتا ہے
کہ اب بھی تیرا انتظار ہوتا ہے

آنکھوں میں سجا اک ہی خواب ہوتا ہے
کہ اب بھی تیرا انتظار ہوتا ہے

دیے کو باندی پے ناز ہوتا ہے
کہ اب بھی تیرا انتظار ہوتا ہے

تیری یادوں میں پیار ہوتا ہے
کہ اب بھی تیرا انتظار ہوتا ہے

ہاتھوں میں لکیروں کا جال ہوتا ہے
کہ اب بھی تیرا انتظار ہوتا ہے

بارش میں روتا آسمان ہوتا ہے
کہ اب بھی تیرا انتظار ہوتا ہے

Rate it:
Views: 532
27 Jun, 2011
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL