اب بھی کہتا ہوں کہ گھبرانہ نہیں ھے

Poet: اسد جھنڈیر By: اسد جھنڈیر, mps

 اب بھی کہتا ہوں کہ گھبرانہ نہیں ھے
گھبرا کر غلط اقدام کوئی اٹھانہ نہیں ھے

ہنوز زندہ ہوں ابھی میں مرا نہیں ہوں۔
دشمن کے آ گے سر اپنا جھکانا نہیں ھے

کیا ہوا؟ رخ ہوائوں کا خلاف ھے تیرے؟
مگر نا امیدی کی طرف تمکو جانا نہیں ھے

اے میری قوم تم سب سے عظیم قوم ہو
شاید تمہاری قسمت میں جشن مانا نہیں ھے

Rate it:
Views: 864
08 Apr, 2022
More Political Poetry