اب تم ہمیں یاد آیا نہ کرو
Poet: اسد جھنڈیر By: اسد جھنڈیر, MPK اب تم ہمیں یاد آیا نہ کرو
یاد ماضی کیطرح ستایا نہ کرو
مشکل سے بھرا ھے زخم الفت۔
تازہ نمک پھر چھڑکایا نہ کرو۔
شب کا جاگا ھے ہجر کا مارا۔
دل کو اور تم یاد آیا نہ کرو۔
کہیں دے نہ جائے صبر جواب۔
ضبط دل اور تم آزمایا نہ کرو۔
چھیڑ کر ذکر بے وفائی کا۔
دل جلوں کا دل جلایا نہ کرو۔
غم کے ماروں کا چارہ ھے کوئی؟
نا امیدی سی امید دلایا نہ کرو۔
بس یہی استدعا ھے تم سے۔
دل ہمارے یار دکھایا نہ کرو۔
پہلے سے ہیں غم کے مارے۔
اور تم درد اپنے بڑہایا نہ کرو۔
عشق مصیبت ما سوا کیا ھے؟
دل کو عذئت تم پہنچایا نہ کرو
یوں بھی مدھوش ہیں پیار میں ترے
جام الفت اور مزید پلایا نہ کرو۔
زندگی کیا ھے ما سوا غم کے؟
زندگی جہنم یار بنایا نہ کرو۔
رہنے دو یہ گریہ زاری اپنے۔
خوں آنکھوں سے ٹپکایا نہ کرو۔
کیوں کرو ضایع یہ انمول موتی؟
اشک بے کار اپنے بہایا نہ کرو۔
تھا اسد نکما دنیا جہاں بھر کا۔
غم اس کا سوگ منایا نہ کرو
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






