اب تم ہمیں یاد آیا نہ کرو

Poet: اسد جھنڈیر By: اسد جھنڈیر, MPK

 اب تم ہمیں یاد آیا نہ کرو
یاد ماضی کیطرح ستایا نہ کرو

مشکل سے بھرا ھے زخم الفت۔
تازہ نمک پھر چھڑکایا نہ کرو۔

شب کا جاگا ھے ہجر کا مارا۔
دل کو اور تم یاد آیا نہ کرو۔

کہیں دے نہ جائے صبر جواب۔
ضبط دل اور تم آزمایا نہ کرو۔

چھیڑ کر ذکر بے وفائی کا۔
دل جلوں کا دل جلایا نہ کرو۔

غم کے ماروں کا چارہ ھے کوئی؟
نا امیدی سی امید دلایا نہ کرو۔

بس یہی استدعا ھے تم سے۔
دل ہمارے یار دکھایا نہ کرو۔

پہلے سے ہیں غم کے مارے۔
اور تم درد اپنے بڑہایا نہ کرو۔

عشق مصیبت ما سوا کیا ھے؟
دل کو عذئت تم پہنچایا نہ کرو

یوں بھی مدھوش ہیں پیار میں ترے
جام الفت اور مزید پلایا نہ کرو۔

زندگی کیا ھے ما سوا غم کے؟
زندگی جہنم یار بنایا نہ کرو۔

رہنے دو یہ گریہ زاری اپنے۔
خوں آنکھوں سے ٹپکایا نہ کرو۔

کیوں کرو ضایع یہ انمول موتی؟
اشک بے کار اپنے بہایا نہ کرو۔

تھا اسد نکما دنیا جہاں بھر کا۔
غم اس کا سوگ منایا نہ کرو
 

Rate it:
Views: 740
17 Dec, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL