مرنے کے خوف سے مر جائیں کس لیے

Poet: اسد جھنڈیر By: اسد جھنڈیر, میر پورخاص

 مرنے کے خوف سے مر جائیں کس لیے
ہو کر رھے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کسلیے

مانا کہ چڑھتے ہیں سولی کسی کے عشق میں۔
زحے نصیب اپنے اب یار جھٹلائیں کس لیے؟

قتل اس کی نگاہ سے ہونا ہی ھے اگر۔۔۔
تو سامنے اسکے آنے سے ہچکچائیں کس لیے؟

دل کو اپنے خوف ھے کسی کے بچھڑ نے کا۔
گر یہی ھے قسمت تو پھر جھٹلائیں کس لیے؟

ایک اکیلے ہم نہیں شیدائی اس شوخ کے۔
اک عالم اس پر مرتا ھے جھٹلائیں کسلیے؟

اسد جب اس کو منظور ھے جدا ہونا تو پھر۔
کس بات کی منت سماجی ترلے اٹھائیں کس لیے؟
 

Rate it:
Views: 540
17 Dec, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL