اب تو اپنے بھی انجانے لگتے ہیں۔۔
Poet: Zohaib zaib By: Zohaib Adalat, Gujratاب تواپنے بھی بیگانے لگتے ہیں
چہرے جانے بھی انجانےلگتے ہیں
ذراسی بات کیا چھیڑیں اے ہمنشیں تیری
آنسو پھر میری آنکھوں کو ستانے لگتے ہیں
اِک قیامت سی گزرتی ہے میرے دِل پر سے
گزرے ہوئے پل جو کبھی یاد مجھے آنے لگتے ہیں
حیران ہوں قدرت کے اِس کرشمے پے
خودسے قریب لوگ اب انجانے لگتے ہیں
وہ دور بھی آئے گا جس کی ہےخواہش تجھ کو
اپنا بھی کہیں گے وہ جن کو بیگانے لگتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






