جب عشق تماشا ہووے گا
Poet: صبغہ احمد By: Sibgha Ahmad, Layyahجب عشق تماشا ہووے گا
تب جگ بھی سارا دیکھے گا
کسی رات کی رانی کی خاطر
کوئی دن کا راجہ رو وے گا
اور رات نگر کے رستے میں
کوئی سانپ ہلورے لے وے گا
باغوں میں کھلے گا پھول فقط
گر کانٹا ساتھ نبھا وے گا
پھر الٹی ہوں گی مشقیں سب
اور کچھ نہ ہاتھ آوے گا
ہمدردی کا پرچار بہت
پر کون جو ساتھ نبھاوے گا
مہر و وفا کا انجام برا
ہر شخص یہی بتلاوے گا
جب روگ محبت لگ جاوے
چین کہاں پھر آوے گا
بس شور ہی ہوگا نگر نگر
پس سوگ منایا جاوے گا
جب عشق تماشا ہووے گا
تب جگ بھی سارا دیکھے گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






