اب زیست مجھ کو تھوڑی سی آسان چاہیے
Poet: Dr.Zahid sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanتھوڑا خلوص ،تھوڑا سا احسان چاہیے
مجھ کو تو ایک ساتھی مہربان چاہیے
جذبوں کا اک الاؤ دہکتا رہے سدا
دل کی خوشی کے واسطے سامان چاہیے
دشوار راستے بھی سہل ہو ہی جائیں گے
چلتے چلو کہ چلنے کا ارمان چاہیے
مشکل تھی مشکلوں سے گزاری ہے آج تک
اب زیست مجھ کو تھوڑی سی آسان چاہیے
دکھ سکھ میں میرا ساتھ نبھاؤ گے عمر بھر
اتنا تو مجھ کو پیار میں پیمان چاہیے
ویراں ہے میرا گھر مرے دل کی طرح بہت
اس میں ذرا سی دیر کو مہمان چاہیے
ہر غم کو جو بھلا دے فقط ایک ہی پل میں
ایسی تمھارے ہونٹوں پہ مسکان چاہیے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






