دیکھتا ہوں میں گلابوں کو بڑی الفت سے
Poet: ڈاکٹر زاہد شیخ By: ڈاکٹر زاہد شیخ, Lahore Pakistanتم ہو میرے لیے پیچیدہ سوالوں کی طرح
کاش آ جاؤ نظر دن کے اجالوں کی طرح
عشق میں ہوتی ہے رسوائی چلو مان لیا
میرا ہی ذکر مگر کیوں ہے مثالوں کی طرح
کیسے کاٹوں میں ترے ہجر کے لمحات بتا
ایک لمحہ بھی گزرتا ہے تو سالوں کی طرح
تجھ پہ چھینٹے نہ پڑیں عشق میں رسوائی کے
تیری عزت کو بچاؤں گا میں ڈھالوں کی طرح
دیکھتا ہوں میں گلابوں کو بڑی الفت سے
مجھ کو آتے ہیں نظر یہ ترے گالوں کی طرح
تیری آنکھوں کو مثالوں سے بیاں کر نہ سکوں
یہ بھی ناکافی ہے کہہ دوں ہیں غزالوں کی طرح
لوگ ریشم کو ملائم و حسیں کہتے ہیں
وہ کہاں تیرے حسیں ریشمی بالوں کی طرح
کیسے چھوڑں میں ترا ہاتھ پکڑ کر جاناں !
میں نے چاہا ہے تجھے چاہنے والوں کی طرح
وہ جو چاہے تو کھلیں، اور نہ چاہے نہ کھلیں
اس نے سمجھا ہے کہ لب ہیں مرے تالوں کی طرح
اک وجد کی ہے کیفیت کہ بنا سازو آواز
رقص اس مست کا ہوتا ہے دھمالوں کی طرح
عشق کرنے میں برائی تو نہیں ہے لیکن
اس میں ہوتی ہے دکھن پاؤں کے چھالوں کی طرح
دور سے آتی ہیں کوئل کی صدائیں زاہد
ان میں ہے درد کا نغمہ مرے نالوں کی طرح
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






