اب نہ تنہائی میں تیرے لیے ہم روئیں گے

Poet: dr.zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistan

ذکر تیرا نہ کریں گے نہ تجھے سوچیں گے
اب نہ تنہائی میں تیرے لیے ہم روئیں گے

اب وفائیں ہیں نہ پہلی سی فضائیں باقی
تیری زلفوں کی نہ اب وہ ہیں گھٹائیں باقی
زندگی تیری محبت میں پریشان ہوئی
رہ گئیں صرف وفاؤں کی سزائیں باقی

زخم جو تو نے محبت کے دیے دھو لیں گے
اب نہ تنہائی میں تیرے لیے ہم روئیں گے

کس قدر ٹوٹ کے چاہا تھا تجھے ہرجائی
اپنی چاہت کی تو بس تجھ سے سزا ہی پائی
اتنی شدت سے تجھے کاش نہ چاہا ہوتا
اور کچھ بھی نہ ملا ہم کو ملی رسوائی

کیا خبر تھی یوں ترے غم میں کبھی تڑپیں گے
اب نہ تنہائی میں تیرے لیے ہم روئیں گے

مل ہی جائے گی کبھی پیار کی محفل کوئی
کل پکارے گی نئی اور ہی منزل کوئی
تو نے تو سونپ دیا ہے ہمیں طوفانوں کو
پا ہی لیں گے جو مقدر میں ہے ساحل کوئی

غم کے اس گہرے سمندر سے نکل جائیں گے
اب نہ تنہائی میں تیرے لیے ہم روئیں گے

Rate it:
Views: 2288
19 Feb, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL