اب کے سال کی عید؟

Poet: Sobiya Anmol By: sobiya Anmol, Lahore

کیا دیکھئے گزرے گی اب کے سال کی عید کیسی؟
گزرے گی تو سنگین‘پھر پُرانی کیا ‘پھر جدید کیسی؟

سوئی ہتھیلی ہی بھاری پڑی جب جاں مظلوم پہ
کیا سوچنا پھر آتی ہے راتوں کو نیند کیسی؟

نابینا ہی رہے سدا خوب سے خوب تر تلاشنے والے
ہوئی دُنیا اندھیری تو آفتاب کی اُجلی دید کیسی؟

ہم کو تو بکنا ہے ہر بار قسمت سے قسمت پہ
پھر مول کیا لگنا‘پھر قیمت کیا ‘ پھر رسید کیسی؟

ہے الم تو دے گا اُڑانیں جلد ہی اونچی
پھر آہ تو آہ ہے‘ پھر ہلکی کیا‘ پھر شدید کیسی؟

ہو سورج سر پہ تو روندتے ہیں پیروں تلے سایہ
تو بندہ بشر ! پھر سائے سے وفا کی اُمید کیسی؟

Rate it:
Views: 589
19 Jun, 2016
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL