ہمارے نصیب میں بھی کاش وصال ہوتا

Poet: Sobiya Anmol By: sobiya Anmol, Lahore

ہمارے نصیب میں بھی کاش وصال ہوتا
زندگی یوں نہ اُجڑا ہوا سا خیال ہوتا

جُھرمٹ ستاروں کے ہوتے ہمارے آس پاس
بدنامیوں کا نہ بِچھا ہوا جال ہوتا

جیسے کر گئےنام رانجھا‘ مجنوں و فرہاد
ویسے ہی ہم سے بھی کوئی کمال ہوتا

ہم بھی فہرستِ عاشقاں میں لکھے جاتے
ہمارا پیار بھی اے کاش بے مثال ہوتا

حسرتیں ساتھ نہ چھوڑتیں عمر بھر ہمارا
اُمید و آشا سے تو نہ قلب کنگال ہوتا

یا آتے ہی نہ اِس دلدل میں کبھی
جیتے ہی رہتے سدا‘جینا نہ محال ہوتا

یا آئے تھے تو کامیاب لوٹے ہوتے
نامِ محبت ہم سے نہ پامال ہوتا

جو حال ہےمیری نادان محبت کا ہائے
یہ نہ ہوتا کبھی‘ خوش حال ہوتا

Rate it:
Views: 449
17 Jun, 2016
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL