اب یہاں کوئی نہیں آئے گا
Poet: UA By: UA, Lahoreاے پیارے دوستو
اب میرا انتظار مت کرنا
اب یہاں کوئی نہیں آئے گا
اے پیارے دوستو
ہم اس دیس جا بسے ہیں
جہاں سے واپس کوئی نہیں آتا
اے پیارے دوستو
غم نہ کرنا کہ ہم بچھڑ گئے
ہمیں ایک دن بچھڑنا ہی تھا
اے پیار دوستو
میں خالی ہاتھ نہیں ہوں
تمہاری محبتیں لئے جا رہا ہوں
اے پیارے دوستو
میں خالی ہاتھ نہیں ہوں
تمہاری دعائیں میرے ساتھ ہیں
اے پیارے دوستو
میرے لفظوں کے مہکتے پھول
میرے خیال کے جگمگاتے ستارے
تمہیں میری موجودگی کا احساس دلاتے رہیں گے
اے پیارے دوستو
میرے محبت بھرے گیت
تمہاری سماعت میں گنگناتے رہیں گے
میرے ہونے کا احساس دلاتے رہیں گے
اے پیارے دوستو
وعدہ کیا تھا اس بہار میں
اپنے پیاروں سے ملنے آؤں گا
پھر سے بزم سخن سجاؤں گا
وعدہ نہیں نبھا سکا
ملنے نہیں آ سکا
اے پیارے دوستو
جب مالک کا بلاوا آتا ہے
پھر کون ٹھہر پاتا ہے
آخر مجھے جانا تھا
اور میں چلا گیا
اے پیارے دوستو
سب کو وہاں جانا ہے
میں جہاں چلا گیا
اے پیارے دوستو
مجھے یاد رکھنا لیکن غم نہیں کرنا
یہ تو عارضی ٹھکانہ ہے
مستقل قیام کا سب کا وہی ٹھکانہ ہے
اے پیار دوستو
کہا سنا معاف کرنا
دعاؤں میں سدا یاد رکھنا
اے پیارے دوستو
وعدہ نہیں نبھا پایا تو
روٹھ نہیں جانا
روٹھنے والو! کوئی
منانے نہیں آئے گا
اے پیارے دوستو
اب میرا انتظار مت کرنا
اب یہاں کوئی نہیں آئے گا
صد افسوس کہ ہمارے پیارے ڈاکٹر زاہد شیخ ہماری بزم کے قارئین کو داغِ مفارقت دے گئے- انا للہ وانا الہ راجعون
ارے چین ایسا کہ ناراض کرے رب کو کیسی راحت
نگا ہ زن تیری راحت، بدن تیری محبت ہے
عجب پالے محبت تو عشق بس نام کی سنگت
عجب عورت تیری بول چاری دیکھی میں نے جگ بھر میں
وصال مرد اچھا نہ ، کر ے کیوں گفتگو الفت
وصال مرد زن گر ہے محبت تو سنو یہ پھر
ملے نہ گر بدن تو رکھے کیوں الفت کی جا نفرت
ہے قال تم فراق تم سے جائے جاں میری ہائے
پریشاں گر ہو محبوب دور نہ کرتے اس کی تم زحمت
محبت خاکؔ طیبؔ یہ پیش خدمت جاں ہو چاہ کے
پیش محبو ب سب کچھ تم کرو گر نہ، نہیں الفت
اُن کی راہوں میں دُعاؤں کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِن کے بَچوں کو دِیا نام، سَہارا، مَنزِل،
اَپنی قِسمَت کی بھی ہَم نے تو گِرانی رَکھ دِی ۔
ہَم دِیّارِ غَیر میں تَنہا ہی لَڑتے رَہ گئے،
اور اُنہوں نے فَقط مَطلَب کی کَہانی رَکھ دِی ۔
گھر بَنایا تھا جِسے سَایۂ اِخلاص سَمجھ،
وَقت آیا تو اُسی گھر نے وِیرانی رَکھ دِی ۔
دَرد اِتنا ہے کہ اَب شِکوَہ بھی مُشکِل لَگتا،
زِندگی نے لَبِ اِظہار پہ پانی رَکھ دِی ۔
مَظہرؔ اِحسان کا بَدلہ نہ سَہی، یاد ہی رَکھ،
کُچھ تو رِشتوں نے وَفادارِی کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِنہیں اَپنا سَمجھا، وُہی یہ کَہہ کے ہَنس دِیے،
حاجی صَاب لُوسدِیاں رَہنا اِیں
بَس اِتنی مِہربانی رَکھ دِی
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا






