ابن مریم
Poet: Asad By: Asad, mpk کہاں تک لکھوں اپنے غم کے فسانے کو ؟؟
جی چاھتا ھے بس آگ لگا دوں زمانے کو
کیوں صبر آزمائی کی تنہا بھروں قیمت ؟؟
بھاڑ میں جائے دنیا اور آگ لگے زمانے کو
بڑا سنبھال رکھا تھا یار کسی کی خاطر
مگر کوئی لوٹ لے گیا دل کے خزانے کو
ایک اکیلا میں تنہا مخلص ساتھ اسکے اور
اور کوئی نہیں وفادار نہین وفاداری نبھانے کو
خامشی میری کمزوری نہیں قطعاً جناب
تم کیوں چلے آتے ھو حشر کوئی برپانے کو
جب تمہیں ضرورت نہیں ساتھ اپنے کی حضور
پھر کیوں اکساتے ھو ھمیں وعدہ وفا نبھانے کو
ھے اسد ناسور عشق جسکا علاج ممکن نہیں
ھے عیسیا ابن مریم کوئی جو آئے مسیحانے کو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






