ابھی تو اشک محبت بہا کے آئیں ہیں

Poet: رضا علی مکرم By: Razaali, India

 ایک شب میری حیات کو ایسی لگی نظر
تقدیرِے دست اپنا دیکھا نے لگی ہنر
گلشن تھےخوش بہت یہ ستاروں نے دی خبر
چمکا وہ چاند جیسے ہی دل کی زمین پر
ہم اپنی پوری حکومت لٹا کے آئیں ہیں
ابھی تو اشک محبت بہا کے آئیں ہیں
ابھی طلوع محبت کا کارواں ہوگا

صبح کے سینے سے اٹھتا ہوا دھواں ہوگا
دلوں کے حال سے واقف نہ پاسباں ہوگا
اور سر جھکائے وفاؤں کا آسماں ہوگا
وہ شاخ حُسنے قیامت بچا کے آئیں ہیں
ابھی تو اشک محبت بہا کے آئیں ہیں

نشے میں ڈوبی وہ راتیں ابھی بھی تازہ ہیں
نظر نظر سے تھیں باتیں ابھی بھی تازہ ہیں
شبِ فراق کی یادیں ابھی بھی تازہ ہیں
ہیں کتنا روئیں یہ آنکھیں ابھی بھی تازہ ہیں
قدم قدم پر ہم سانسیں بچھا کے آئیں ہیں
ابھی تو اشک محبت بہا کے آئیں ہیں

Rate it:
Views: 497
21 Dec, 2017
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL