ابھی تک نہیں بھولی صورت تمھاری
Poet: By: AB shahzad, Mailsiمرے ذہن میں ہے رفاقت تمھاری
ابھی تک نہیں بھولی صورت تمھاری
محبت کے لمحات سب یاد ہیں وہ
نہیں رائیگاں ہے محبت تمھاری
تجھے تو نہیں یاد ہوگا ابھی کچھ
مجھے یاد ہے پر شرارت تمھاری
نہیں پیار ملتا کبھی بھیک میں اب
یہی بھول ہے سچ حماقت تمھاری
ہوا کیسے احساس چاہت کا تم کو
کہاں وہ گئی اب شقاوت تمھاری
جوانی گئی آئے گا پھر بڑھاپا
نہیں پھر رہے گی نزاکت تمھاری
چلو دست الفت مرا تھام لو تم
ہے اب تو محبت شرافت تمھاری
بسر رات تنہا ہی کرنی پڑے گی
ہے شہزاد قسمت میں عجلت تمھاری
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






