لایا ہوں پیار آج میں اپنا خرید کے
Poet: By: AB shahzad, Mailsiلایا ہوں پیار آج میں اپنا خرید کے
کامل اگر ہو پیر مزے ہیں مرید کے
خواہش ملن کی تھی نہیں پوری ہوئی مری
غم ہجر میں ملے ہیں مجھے تو شدید کے
کتمان اس لیے ہی متالم نہیں رہے
کھائے ہیں زخم چاک گریباں چھید کے
مطلس نہیں, سدا رہے گی میری شاعری
ہیں شعر سب ہی میرے زمانے جدید کے
مطران کی چلی نہیں مومر ہی بن گیا
قاتل حسین کے ہی ہیں حامی یزید کے
کہہ آج اس نے صاف دیا کچھ نہیں رہا
قابل نہیں ہوں میں تری شہزاد دید کے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






