اجالے ڈوب جائےکیا رہا ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاقیامت کا کوئی حصہ رہا ہے
اجالے ڈوب جائےکیا رہا ہے
گرے گلیوں کے قدموں پر اندھیرا
فضا میں کوئی بھی جلتا رہا ہے
ہیں سطح بحر پر موجیں پریشاں
یہ جو دن ڈوبے تو پیاسا رہا ہے
ہزاروں رنگ پرچم سرنگوں ہیں
وہ ہم ہی تھے کہ جو اپنا رہا ہے
ہماری ابتدا مٹی میں اک راز
ہمارے واسطے قصہ رہا ہے
کہے کیا ہائے زخمِ دل ہمارا
تو ہم نے یاں نہ کچھ کھویا رہا ہے
کہیں ایسا نہ پائے گا نہ وشمہ
اسے ہم نے بہت ڈھونڈھا رہا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






