کوئی دنیا میں تجھ جیسا رہا ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاکوئی دنیا میں تجھ جیسا رہا ہے
ترے جیسا کوئی چہرہ رہا ہے
مرا اللہ پہ ہے ہر دم بھروسہ
مرا احساس ابھی زندہ رہا ہے
ہو جس انسان کا احساس مردہ
وہ زندہ ہوکے بھی مردہ رہا ہے
کوئی تجھ سے کرے گا پیار کیونکر
اگر شیریں ترا لہجہ رہا ہے
میں طالب ہوں ترے رحم و کرم کی
تری قدرت میں اچھاسا رہا ہے
مجھے ہر لمحہ آئے یاد تیری
کبھی آئی تجھے بھولہ رہا ہے
گلہ اپنے مقدر سے ہے وشمہ
کسی انسان سے شکوہ رہا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






