اجل ہے تیری گھات میں

Poet: محمد اطہر طاہر By: Athar Tahir, Haroonabad

آئے ہو کیسی بحر میں؟
لپٹے دھوئیں کی لہر میں
سُلگ رہے ہو زہر میں
لگتے ہو کسی قہر میں
لُٹے ہو جیسے سحر میں
وحشت ہے تیری ذات میں
دہشت ہے تیری بات میں
ہیبت ہے تیری رات میں
سانسیں تیری اٹک رہی ہیں
اجل ہے تیری گھات میں
یہ زخم ہیں ماہ و سال کے
یا نشان ہیں رنج و ملال کے
کیوں بیٹھے ہو ہار کے؟
زخموں پہ پردہ ڈال کے
چہرے پہ لہریں درد کی
رنگت ہے تیری زرد سی
یہ کیسے کرب میں ہو تم؟
کسی کے درد میں ہو تم
جسے تم کہہ بھی نہیں سکتے
کہے بن رہ بھی نہیں سکتے
ملا ہے درد تمہیں کیسا؟
جسے تم سہہ بھی نہیں سکتے
کسی کو یاد کرتے ہو
کوئی فریاد کرتے ہو
اُلجھے ہوئے لگتے ہو
گھبرائے ہوئے ہو
یہ آگ ہے کیسی؟
جو دہکا ئے ہوئے ہو
لگتا ہے محبت کے
ٹھکرائے ہوئے ہو

Rate it:
Views: 787
09 Nov, 2015
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL