اجنبی کہوں کیوں کر
Poet: rehan By: rehan abbas, lahoreاجنبی تو ہو لیکن
اجنبی کہوں کیوں کر
چاہ کےمحبت کے
سارے خواب ہم سے ہیں
رسم ہے زمانے کی
عشق کو دبا رکھنا
بارشوں کے موسم میں
حبس سا بنا رکھنا
قید کے اذیت کے
سب حساب ہم سے ہیں
سادگی بھی ہم سی ہے
عاجزی بھی ہم سی ہے
اور خوشی کے موسم میں
یہ ہنسی بھی ہم سی ہے
پھول مسکراہٹ کے
جب کبھی بھی کھلتے ہیں
ہونٹ کھینچ دیتے ہیں
آنکھ میچ دیتے ہیں
دانت جھانک لیتے ہیں
سانس سانس جینے کے
سارے باب ہم سے ہیں
ہر برس جنم دن پر
ہم بھی سوچتے ہیں اور
تم بھی سوچتے ہو گے
اس خدائے برتر نے
ہم کو آسمانوں سے
کس لیے اتارا ہے
کس لیے بنا یا ہے
زیست کے تعلق کے
سب سوال ہم سے ہیں
سب جواب ہم سے ہیں
اجنبی تو ہو لیکن
اجنبی کہوں کیوں کر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






