میرے سورج کی کشش باندھ نہ پائی مجھ کو
Poet: rehan By: rehan abbas, lahoreہم نے چپ چاپ جیے جانے کی عادت پا لی
تم نہ مل پائے تو دنیا کی حقیقت پا لی
اب بھی بیٹھیں تو فقط سوچتے رہتے ہیں تجھے
عشق پایا کہ مفکر کی طبیعت پا لی
ایک لمحہ جو ترے پیار نے بخشا تھا کبھی
ہم نے اس لمحے میں سو سال کی مدت پا لی
ہم کو معلوم ہے بے تاب سے پھرتے ہیں یہاں
لوگ کہتے ہیں کہ مرحوم نے جنت پا لی
میرے سورج کی کشش باندھ نہ پائی مجھ کو
سو خلائوں میں بھٹک جانے کی قسمت پا لی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






