احسان
Poet: Asad By: Asad, mpk کرتا ھے شمار ھمکو وہ دوستوں میں اپنے
یا رب!! یہ احسان اسکا ھم چکائیں گے کسطرح
اک بھیڑ سی لگی ھے اس کے آس پاس میں
پھر ھم حال دل اپنا انہیں سنائیں گے کسطرح
ما سواء ان کے کہیں اور ٹھکانہ ھے کہاں؟
منگتے ھیں در کے اسکے پھر جائینگے کسطرح
کوئی دل میں پھیر رکھتے ھیں یعنی بغض آپ
پھر روٹھوں ھوؤں کے اپنے آپ منائیں گے کسطرح
جن کی عقل سلیم کے آپ خود گواہ ھوں
پھر انکے آگے بھید دل چھپائیں گے کسطرح
آہ !!!قید الفت میں ھیں ھم گرفتار ھو چلے
ھنوز دیکھتے ھیں وہ ھمیں بچائیں گے کسطرح
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






